User Tag List

Thanks Thanks:  1
Likes Likes:  2
Dislikes Dislikes:  0
Page 2 of 2 FirstFirst 12
Results 11 to 15 of 15
  1. #1
    FM Super Star
    Join Date
    Dec 2012
    Location
    Karachi
    Age
    27
    Posts
    42,368
    Post Thanks / Like

    Awards Showcase

    Mukammal Namaz Ahadees Ki Roshni Me

    مکمل نماز احادیث کی روشنی میں




    قبلے کی طرف منہ کرنے کی فرضیت:

    قبلہ رخ ہونا نماز کی شرط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم فرض اور نفل دونوں قسم کی نمازوں میں اپنا رخ کعبے کی جانب فرمایا کرتے تھے۔ ٹھیک طرح سے نماز ادا نہ کرنے والے ایک صحابی کو نماز کا طریقہ سکھاتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس کا حکم بھی ارشاد فرمایا:


    إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ ثُمَّ اسْتَقْبِلْ الْقِبْلَةَ فَكَبِّر 1
    جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو( اچھے انداز سے) مکمل وضو کر، پھر قبلے کی طرف منہ کر اور تکبیر (تحریمہ) کہہ


    سواری پر نفل نماز میں استقبال قبلہ ضروری نہیں:

    البتہ سفر میں قبلہ رخ ہوئے بغیر بھی سواری پر بیٹھے بیٹھے نفل یا وتر کی نماز ادا کرلینا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم دورانِ سفرسواری پر بیٹھ کرنفل اور وتر پڑھ لیا کرتے تھے خواہ اس کا رخ مشرق و مغرب یا کسی بھی طرف ہوتا۔2
    قرآن کی یہ آیت اسی بارے میں اتری ہے۔3
    فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ (سورۃ البقرۃ آیت 115)
    تو تم جدھر بھی رخ کرو، ادھر اللہ کا چہرہ ہے۔
    لیکن اگر سواری کو قبلہ رخ کرنا ممکن ہو تو نماز شروع کرنے سے پہلے کعبے کی طرف منہ کر لینا افضل ہے۔( اس لیے کہ) کبھی کبھار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز کے آٖغاز میں اللہ اکبر کہتے وقت اونٹنی سمیت قبلہ رخ ہو جاتے، اس کے بعداپنی نماز جاری رکھتے خواہ سواری کا رخ کسی بھی طرف پھر جاتا4 پھر سر کے اشارے سے رکوع و سجود ادا فرماتے اور سجدے کے لیے سر کو رکوع کی نسبت زیادہ جھکا لیتے تھے5۔ جمہور علماء کے نزدیک ہر قسم کے سفر میں سواری پر نفلی نماز پڑھنا جائز ہے خواہ وہ سفر اتنا تھوڑا ہی ہو کہ اس میں فرض نماز قصر نہ کی جا سکے۔


    فرض نماز سواری پر جائز نہیں:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم فرض نماز سواری سے نیچے اتر کر اور قبلہ رخ ہو کر ادا فرماتے تھے اس لیے فرض نماز سواری پر بیٹھ کر پڑھنا جائز نہیں الا یہ کہ کوئی شرعی عذر ہو، مثلا ٹرین یا ہوائی جہاز میں سفر کے دوران اترنا ممکن نہ ہو اور نماز کا وقت نکل جانے کا ڈر ہو تو وہیں نماز ادا کر لینی چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔


    شدیدخوف کی حالت میں نماز کیسے ادا کی جائے:

    دشمن کی کثرت یا شدید خوف وغیرہ کی وجہ سے جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھی جا سکے تو جیسے بھی ممکن ہو نماز ادا کر لینی چاہیے، ایسے حالات میں سواری سے اترنے اور قبلہ رخ ہونے وغیرہ کی کچھ پابندی نہیں، فرض نماز خواہ سواریوں پر بیٹھے ادا کی جائے یا پیدل چلتے ہوئےپڑھی جائے اور رخ قبلہ کی جانب رہے یا نہ رہے بہرحال نماز ادا ہو جائے گی۔بلکہ سخت لڑائی میں تو سر کے اشارے سے بھی نماز پڑھی جا سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے6فرمایا:
    إذا اختلطوا فانما هو التكبير والاشارة بالرأس7
    جب (فوجیں) گتھم گتھا ہو جائیں تو پھر بس تکبیر اور سرسے اشارہ (ہی نماز ادا کرنے کے لیے کافی) ہے


    قبلہ کی حدود

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے مشرق اور مغرب کے درمیان تمام سمت کو قبلہ قرار دیتے ہوئے فرمایا:
    مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ 8
    مشرق اور مغرب کے درمیان تمام سمت قبلہ ہے
    اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص خانہ کعبہ کو دیکھ رہا ہو اسے اپنا رخ ٹھیک ٹھیک اس کی جانب ہی کرنا چاہیے لیکن دور کے رہنے والوں کے لیے فقط درست سمت کا التزام ہی کافی ہے۔


    قبلہ کی سمت معلوم کرنے میں غلطی ہونا

    جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی رفاقت میں تھے۔آسمان پر بادل چھا گیا تو قبلہ کے بارے میں ہمارا اختلاف ہو گیا۔ ہم نے درست سمت معلوم کرنے کی پوری کوشش کے بعدالگ الگ سمت میں نماز ادا کر لی اور اپنی اپنی سمت کو نشان زدہ کر دیا تا کہ صبح ہمیں معلوم ہو کہ کیا ہم نے قبلہ رخ نماز پڑھی ہے یا نہیں۔ صبح ہونے پر معلوم ہوا کہ ہم نے قبلہ کی سمت نماز ادا نہیں کی۔ ہم نے تمام واقعہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔انہوں نے ہمیں نمازلوٹانے کا حُکم نہیں دیا اور فرمایا:
    قد أجزأت صلاتكم
    تمہاری نماز ہو گئی9


    قبلے کی مختصر تاریخ:

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شروع میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی:
    قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَام(سورۃ البقرۃ آیت 144)
    (اے محمد) ہم آپ کا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم آپ کو اسی قبلہ کی طرف جس کو آپ پسند کرتے ہیں منہ کرنے کا حکم دیں گے۔ تو اپنا منہ مسجد حرام (بیت اللہ) کی طرف پھیر لو
    اس آیت کے نزول کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز میں اپنا چہرہ مبارک خانہ کعبہ کی جانب کیا کرتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو کچھ لوگ قباء کے مقام میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اچانک ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی جانب سے ایک پیغام لانے والا آیا جس نے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر آج رات قرآن پاک کی آیت نازل ہوئی ہے جس میں کعبے کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خبردار، تم بھی اپنا رخ اسی طرف کر لو۔ چنانچہ پہلے ان کا رخ شام کی جانب تھا، اس کے کہنے پر تمام نمازی گھوم کر قبلہ رخ ہو گئے اور امام بھی گھوم کر سامنے کی طرف آ گیا اور کعبے کی طرف رخ کر لیا۔10
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غلط سمت میں نماز پڑھتے ہوئے شخص کو نماز کے دوران ہی صحیح سمت کی خبر دی جا سکتی ہے اور اگر کسی کو دوران نماز پتہ چل جائے کہ وہ غلط سمت میں نماز پڑھ رہا ہے تو اسے چاہیے کہ اسی وقت اپنا رخ صحیح سمت میں کر لے۔


    حوالہ جات:
    1۔صحیح بخاری کتاب الاستئذان باب من رد فقال علیک السلام، صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب وجوب قراء ۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ و انہ اذا لم یحسن الفاتحۃ
    2۔صحیح البخاری کتاب الجمعۃ باب الوتر فی السفر، صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا باب جواز صلاۃ النافلۃ علی الدابۃ فی السفر حیث توجھت
    3صحیح مسلم کتاب صلاۃ المسافرین و قصرھا باب جواز صلاۃ النافلۃ علی الدابۃ فی السفر حیث توجھت
    4سنن ابی داؤدکتاب الصلاۃ باب التطوع علی الراحلۃ و الوتر، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 1225
    5سنن ترمذی کتاب الصلاۃ باب ما جاء فی الصلاۃ علی الدابۃ فی الطین و المطر، تفصیل کے لیے دیکھیے صفۃ صلاۃ النبی الکتاب الام ص 58
    6صحیح البخاری کتاب تفسیر القرآن باب قولہ عز و جل فان خفتم فرجالا ا و رکبانا فاذا امنتم فاذکروا اللہ
    7سنن البیہقی جلد 3 ص 255
    8سنن ترمذی کتاب الصلاۃ باب ما جاء ان ما بین المشرق و المغرب قبلۃ ، صحیح سنن ترمذی حدیث نمبر 342
    9سنن دار قطنی کتاب الصلاۃ باب الاجتھاد فی القبلۃ و جواز التحری فی ذلک، ارواء الغلیل فی تخریج احادیث منار السبیل للالبانی حدیث نمبر 291
    10صحیح البخاری کتاب الصلاۃ

    #1saviou, Aug 30, 2010

    Life is what happens while you are
    busy making other plans.



  2. Thanks Fareena thanked for this post
    Likes Fareena liked this post
  3. Sponsored Links
  4. #11
    FM Super Star
    Join Date
    Dec 2012
    Location
    Karachi
    Age
    27
    Posts
    42,368
    Post Thanks / Like

    Awards Showcase

    سری اور جہری قراءت کن نمازوں میں کرنی چاہیے

    سنت مطہرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم (جماعت کرواتے ہوئے)نماز فجر کی دونوں رکعتوں اور مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں بلند آواز سے قراءت فرماتے تھے جبکہ ظہر و عصر کی تمام رکعتوں، مغرب کی تیسری اور عشاء کی آخری دو رکعتوں میں سری قراءت کرنا سنت ہے۔ اس پر امت مسلمہ کا اجماع ہے جیسا کہ امام نوویؒ نے بیان کیا ہے اور اس بارے میں کثرت سے احادیث بھی موجود ہیں جن کا بیان آگے مسنون(یعنی سنت کے مطابق) قراءت کے ذیل میں آئے گا ان شاء اللہ۔ نیز نمازِ جمعہ[1]، نماز عیدین[2]، نماز استسقاء[3] اور نماز کسوف[4]میں بلند آواز سے قراءت کرنا سنت ہے۔

    صحابہ کوسری قراءت کا علم کیسے ہوتا تھا
    سری قراءت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی داڑھی مبارک ہلا کرتی تھی جس سے صحابہ کرام کو معلوم ہو جاتا کہ وہ قراءت فرما رہے ہیں[5]، جبکہ کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم درمیان میں کوئی آیت بلند آواز سے پڑھ دیا کرتے جس سے سننے والے جان لیتے کہ وہ کون سی سورت پڑھ رہے ہیں[6]۔

    رات کے نوافل (تہجد) میں قراءت کیسے کی جائے
    رات کے نوافل (تہجد) میں نمازی کو اختیار ہے چاہے بلند آواز سے پڑھے یا آہستہ آواز میں، دونوں طریقے سنت سے ثابت ہیں [7]، لیکن آواز اتنی بلندنہیں ہونی چاہیے جس سے دوسروں کو تکلیف ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم رات کو اپنے گھر میں درمیانی آواز میں قراءت فرماتے تھے جسے حجرے میں موجود شخص ہی سن سکتا تھا[8]۔(یہاں حجرہ سے مراد وہ دیوار یا آڑ ہے جو گھر کے دروازے کے سامنے بنائی جاتی ہے ، جیسا کہ گھر کی بیرونی چار دیواری)، لیکن کبھی کبھارمعمول سے ہٹ کر اتنی بلند آواز میں بھی پڑھا ہے کہ حجرے سے باہر موجود افراد کو سنائی دے سکے[9]۔

    تہجد وغیرہ میں سری اور جہری میں کونسا طریقہ افضل ہے
    یہاںسوال پیدا ہوتا ہے کہ سری اور جہری میں افضل طریقہ کون سا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس آدمی کو ریاکاری اور دکھاوے کا اندیشہ ہواس کے لیے آہستہ آواز میں پڑھنا افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ہے:
    الْجَاهِرُ بِالْقُرْآنِ كَالْجَاهِرِ بِالصَّدَقَةِ وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ كَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَةِ
    "قرآن کی جہری قراءت کرنے والا اس شخص کی طرح ہے جو اعلانیہ صدقہ کرتا ہے اور پست آواز سے قرآن پڑھنے والا چھپا کر صدقہ کرنے والے کی مانند ہے"
    اور جب ریاکاری کا ڈر نہ ہوتو درمیانی آواز سے پڑھنا افضل ہے کیونکہ ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو ایسا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے تو دیکھا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ آہستہ آواز سے نماز پڑھ رہے ہیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ پر سے گزر ہوا تو انہیں بآواز بلند قراءت کرتے پایا۔ بعد میں جب وہ دونوں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
    يَا أَبَا بَكْرٍ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي تَخْفِضُ صَوْتَكَ
    "اے ابو بکر! میں (رات کو) آپ کے (گھر کے) پاس سے گزرا تو (دیکھا کہ) آپ آہستہ آواز میں نماز پڑھ رہے ہیں"
    ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
    "اے اللہ کے رسول!(اس کی وجہ یہ ہے کہ )میں جس (رب) سے سرگوشی کر رہا تھا وہ تو (ہلکی آواز بھی) سنتا ہے"۔
    پھر عمر رضی اللہ عنہ سے کہا:
    مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي رَافِعًا صَوْتَكَ
    "میرا گزر جب آپ پر ہوا تو آپ نماز میں بلند آوا زسے قراءت کر رہے تھے"
    انہوں نے جواب دیا:
    "یا رسول اللہ! میرا ارادہ سوئے ہوئے کو جگانے اور شیطان کو بھگانے کا تھا"
    اس پر نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
    يَا أَبَا بَكْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا
    "اے ابوبکر، آپ اپنی آواز کچھ بلند کر لیا کریں"
    اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
    اخْفِضْ مِنْ صَوْتِكَ شَيْئًا
    "آپ اپنی آواز کچھ پست کیا کریں"
    (سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 1329)

    دن کے نوافل میں قراءت کیسے ہو:
    دن میں پڑھے جانےو الے نوافل کے بارے میں صحیح سند کے ساتھ کچھ بھی مروی نہیں ہے لیکن بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سری قراءت کرنی چاہیے۔ البتہ ایک ضعیف حدیث میں ہےکہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو دیکھا کہ وہ نفل پڑھتے ہوئے اونچی آواز میں قراءت کر رہے ہیں تو ان سے فرمایا :
    يا عبد الله ! سمِّع الله ولا تُسْمِعنا
    "اے عبداللہ! اللہ کو سنا ہمیں نہ سنا"

    حوالہ جات:

    [1] ۔ صحیح مسلم کتاب الجمعۃ باب ما یقرأ فی صلاۃ الجمعۃ

    [2] ۔ سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب ما جاء فی القراءۃ فی صلاۃ العیدین

    [3] ۔ صحیح البخاری کتاب الجمعۃ باب کیف حول النبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ظھرہ الی الناس

    [4] ۔ سنن ابن داؤد کتاب الصلاۃ باب القراءۃ فی صلاۃ الکسوف۔ صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 118

    [5] ۔ صحیح البخاری کتاب الأذان باب رفع البصر الی الأمام فی الصلاۃ

    [6] ۔ صحیح البخاری کتاب الأذان باب یقرأ فی الأخریین بفاتحۃ الکتاب

    [7] ۔ سنن ترمذی کتاب الصلاۃ باب ما جاء فی قراءۃ اللیل۔ صحیح سنن ترمذی حدیث نمبر 449)

    [8] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی رفع الصوت بالقراءۃ فی صلاۃ اللیل، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 1327)

    [9] ۔ سنن ابن ماجہ کتاب الصلاۃ باب ما جاء فی القراءۃ فی صلاۃ اللیل، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 1349)


    Life is what happens while you are
    busy making other plans.



  5. Sponsored Links
  6. #12
    FM Super Star
    Join Date
    Dec 2012
    Location
    Karachi
    Age
    27
    Posts
    42,368
    Post Thanks / Like

    Awards Showcase

    احادیث صحیحہ میں کچھ ایسی سورتوں کا بیان ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے مختلف اوقات میں مختلف نمازوں میں پڑھا۔ ذیل میں ان کی تفصیل دی جا رہی ہے تا کہ جن لوگوں کو یہ سورتیں یاد ہیں وہ انہیں متعلقہ نمازوں میں پڑھیں اور جنہیں یاد نہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقےپر عمل پیرا ہونے کی نیت سے انہیں سیکھنے کی کوشش کریں۔ واضح رہے کہ اس تحقیق کے پیچھے اتباع رسول کا جذبہ ہے ورنہ قرآن مجید کی کوئی بھی سورت نماز میں پڑھی جا سکتی ہے۔

    نماز فجر میں مسنون قراءت
    نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے درج ذیل سورتیں پڑھنا منقول ہے۔( مصحف میں تلاش کی آسانی کی خاطر نام کے بعد قوسین کے اندر سورت کا نمبر لکھ دیا گیاہے)

    1۔ طوال مفصل کی سورتیں[1]( چھبیسویں پارے میں سورۃ ق (50) سے آخر قرآن تک کی سورتیں طوال مفصل کہلاتی ہیں)۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ان میں سے سورۃ الطور(52) کی تلاوت فرمائی تھی[2]۔ سورۃ الواقعہ (56) کو فجر کی دورکعتوں میں[3] اور سورۃ ق (50) کو پہلی رکعت میں پڑھنا بھی ثابت ہے[4]۔

    2۔ سورۃ التکویر (81) (اذا الشمس کورت)[5]

    3۔ سورۃ الزلزال (99) (اذا زلزلت الأرض زلزالھا)۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نےایک دفعہ دونوں رکعتوں میں یہی سورت پڑھی تھی۔ اس حدیث کے راوی صحابی کہتے ہیں "مجھے نہیں معلوم کہ (دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت) پڑھنا بھولنے کی وجہ سے تھا یا نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے عمدًا ایسا کیا تھا"[6]۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مقصود دونوں رکعتوں میں ایک ہی سورت پڑھنے کی مشروعیت اور جواز بتانا تھا۔

    4۔ ایک سفر میں نماز فجرپڑھاتے وقت "قل اعوذ برب الفلق" اور "قل اعوذ برب الناس" یعنی سورۃ الفلق (113) اور سورۃ الناس (114) کی تلاوت فرمائی۔ ان دونوں سورتوں کونماز میں پڑھنے کا حکم ایک دوسری حدیث میں بھی ملتا ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے عقبہ بن معاذ رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا تھا؛
    " اقرأ في صلاتك المعوذتين
    "اپنی نماز میں معوذتین پڑھا کرو[7]
    فما تَعَوَّذَ مُتَعَوِّذٌ بمثلهما
    " ان جیسی کوئی (شئے ایسی) نہیں ہے جس کے ساتھ کسی پناہ لینے والے نے پناہ لی ہو"[8]

    5۔ کبھی کبھار ان متوسط اور چھوٹی سورتوں کی بجائے ساٹھ آیات یا اس سے کچھ زیادہ کی قراءت بھی فرمائی ہے[9]۔ ( اس حدیث کے ایک راوی کا کہنا ہے کہ "میں نہیں جانتا اتنی قراءت دونوں رکعتوں میں ہوتی تھی یا ایک رکعت میں۔)

    6۔ سورۃ الروم (30)[10]، سورۃ یس (36) [11] ، سورۃ الصافات (37)[12] اور سورۃ المومنون (23)۔ سورۃ المومنون کی قراءت مکہ مکرمہ میں صبح کی نماز پڑھاتے ہوئے فرمائی تھی، پھر اس سورت میں موسیٰ و ہارون علیہما السلام یا پھر عیسیٰ علیہ السلام (راوی کو شک ہے) کے ذکر پر پہنچے تو کھانسی آ جانے کی وجہ سے رکوع میں چلے گئے[13]۔

    8۔ جمعے کے دن نماز فجر کی پہلی رکعت میں "الم ، تنزیل" یعنی سورۃ السجدۃ (32) اور دوسری رکعت میں "ھل اتی علی الانسان" یعنی سورۃ الدھر (76) کا پڑھنا مسنون ہے[14]۔(لیکن ائمہ مساجد کو چاہیے کہ کبھی کبھار ان کی بجائے کوئی دوسری سورت پڑھا کریں تا کہ کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ اس دن انہی سورتوں کو پڑھنا لازم ہے)
    سنت مطہرہ کےعمومی قاعدہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے دوسری رکعت کوپہلی رکعت کی نسبت مختصر رکھنا چاہیے[15]۔

    حوالہ جات:

    [1] ۔ سنن نسائی الکبرٰی جلد 1 ص 338، صحیح و ضعیف سنن نسائی حدیث نمبر 982 ۔ حدیث حسن

    [2] ۔ سنن ابی داؤد کتاب المناسک باب الطواف واجب، صحیح سنن ابی داؤد حدیث نمبر 1882)

    [3] ۔ صحیح ابن خزیمہ جلد 1 ص 265 ناشر المکتب الاسلامی بیروت، مسند احمد مسند البصریین حدیث جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ

    [4] ۔ صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب القراءۃ فی الصبح

    [5] ۔ صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب القراءۃ فی الصبح

    [6] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب الرجل یعید سورۃ واحدۃ فی الرکعتین، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 816

    [7] ۔ ۔ مسند احمد مسند البصریین حدیث رجل رضی اللہ عنہ

    [8] ۔ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب فی المعوذتین۔ صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 1462

    [9] ۔ سنن ترمذی کتاب الصلاۃ باب ما جاء فی القراءۃ فی صلاۃ الصبح۔ صحیح و ضعیف سنن ترمذی حدیث نمبر 306

    [10] ۔ رواہ البزار

    [11] ۔ المعجم الکبیر للطبرانی جلد 2 ص 361 حدیث 2019

    [12] ۔ مسند احمد مسند المکثرین من الصحابہ مسند عبداللہ بن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

    [13] ۔ صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب القراءۃ فی الصبح

    [14] ۔ صحیح البخاری کتاب الجمعۃ باب ما یقرأ فی صلاۃ الفجر یوم الجمعۃ

    [15] ۔ صحیح البخاری کتاب الأذان باب یقرأ فی الأخریین بفاتحۃ الکتاب


    Life is what happens while you are
    busy making other plans.



  7. Likes zoonia liked this post
  8. #13
    FM Super Star
    Join Date
    Dec 2012
    Location
    Karachi
    Age
    27
    Posts
    42,368
    Post Thanks / Like

    Awards Showcase

    Tags:
    .... .
    ..... @Zee Leo @fareena @cuteposion
    .....@ @Optimist
    .... @Pari @zoonia @Sonia
    .... @LaAdLi GuRiYa @Mr_M4k @sweet-princess
    .... @Ajnabee @Sahil
    .... @Great_Gambler @ZarOon @UmerAmer @Oreo @~Bahaar~
    ..... @Salman

    Life is what happens while you are
    busy making other plans.



  9. #14
    FM Manager
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Karachi, Pakistan
    Posts
    68,048
    Post Thanks / Like

    Awards Showcase

    Blog Entries
    1
    Jazak Allah Khair






  10. #15
    Junior Member
    Join Date
    Mar 2017
    Posts
    16
    Post Thanks / Like
    subhanaALLAH

Page 2 of 2 FirstFirst 12

Visitors found this page by searching for:

Nobody landed on this page from a search engine, yet!
SEO Blog

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
 
 
Copyright © 2000 - 2008, YourSiteForums.com. All Rights Reserved.
No Duplication Permitted! CompleteVB skins shared by PreSofts.Com
CompleteVB skins shared by PreSofts.Com