User Tag List

Thanks Thanks:  0
Likes Likes:  0
Dislikes Dislikes:  0
Results 1 to 2 of 2
  1. #1
    Senior Member
    Join Date
    Sep 2013
    Age
    97
    Posts
    662
    Post Thanks / Like
    Blog Entries
    90

    کاکل پیچاں

    (کاکل پیچاں کا مطلب ہوتا ہے، گھنگریالی زلف )
    وہ خوبصورت پیچ و خم جو زلفوں کو شانوں پہ لا کر پھر ڈھلکا دیں، اب وہ بات کیوں نا رہی ان زلفوں میں ، کیا ہوا جو زلفوں کے پیچ و خم اب صرف کتابی ہیں.کیوں بھول گئے ہم خود کی پہچان کو ، کیوں یہ بات ہمیں یاد نہیں کہ صنف نازک کی پہچان اور خوبصورتی کی علامت تو ان ہی دھلکتی زلفوں میں تھی.وہ داستانیں وہ باتیں وہ غزلیں جو محبت میں بیان کرتے کرتے کتنی دفعہ زلفوں کو بیان کرتی تھیں.وہ داستانیں کہاں ہیں ، وہ کہانیاں، وہ کتابی باتیں، وہ کتابی چہرے، مرمری بدن وہ سب پہچان کہاں گئی ..کیا اب اس دنیا میں حسن نہیں، یا خوبصورتی کا مطلب بدل گیا.

    کچھ نہیں بدلہ صرف زلف بدل گئی، پہچان نہیں بدلی بس پہچاننے کا طریقہ بدل گیا.آج کل شاید ہی کوئی زمانے کو اس نگاہ سے دیکھتا ہو جیسے میں نے دیکھا ہے. مجھے وو پرانی کہانیوں اور داستانوں میں جو محبت اور غزل کا رنگ نظر آتا ہے وہ آج کل نہیں آتا. لوگ عملی زندگی میں آ کر باتیں بھی عملی کرتے ہیں، کیا ہم اپنےذہن کو تھوڑا سا سکون نہیں دے سکتے پرانے انداز سے سوچ کر.

    کیوں ہم لڑکیوں میں اب وہ بات نہیں ? کیوں ہم صرف پڑھے لکھ نظر آنا پسند کرتے ہیں؟کیوں اب ہم لڑکی نظر آنا پسند نہیں کرتے. یہ سب باتیں غور کرنے کی ہیں.غرض یہ کہ اپنے پہناوے اپنی پہچان ، اپنی شرم و حیا بھول کر ہم صرف وقت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ، یونہی انجانے میں وقت ہمارے ہاتھوں سے نکلا نہیں جا رہا، ہم اس وقت کے ہاتھوں سے نکل جانے کی وجہ ہیں. ہم ہی اس وقت کے مجرم ہیں.وقت کبھی نہیں بدلتا، ہم بدل جاتے ہیں.

    صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
    زندگی یونہی تمام ہوتی ہے.

    حسن کی وہ پہچان جو کبھی داستانوں میں ہوا کرتی تھی اب نہیں رہی. سرخ و سفید چمکتے چہرے پارلر کی نظر ہوئے. آنکھیں پردے کے پہرے سے اوجھل ہو گئی، پہناوے درزیوں کی نظر ہوئے، غرض یہ کے آوے کا آوا ہی بدل گیا. ہماری پہچان بدلنے میں ہمارا معاشرہ، ہمارا خاندان ، سب ہمارے ساتھ ہیں، کیوں ان والدین کو شرم نہیں آتی جو اپنی بیٹیوں کو بے پردہ گھر سے با ہر لے جاتے ہیں، کہاں گئی ان بھائیوں کی شرم جو اپنی بہن کی عزت کے لئے زندگی کو بھی داؤ پہ لگا دیتے تھے .سٹیٹس کی مار کھا گئے ایمان کو مات دے کر.

    ایک نظر غور کیجئے تو یہ نازکی یہ انداز یہ شرم کا پیکر جو لڑکی کے روپ میں تھا وو تھا کیا، کچھ یوں کے نظر ڈالو تو سر سے پاؤں تک ایک ایک ادا سے شرم دھلکتی ، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کی کوشش کرو تو خود بھی اس انتظار میں جھک جاؤ کے نظر اٹھے تو اس سے نظر ملے، گزر ہو تو بیٹھے یہ سوچتے رہنا کہ کیا خوبصورتی سے قدرت نے بنایا ہے. کبھی بل کھاتی لمبی زلفیں شانوں تک ڈھلکی ، کبھی اس طرح سے نرم و نازک ڈھلکتے بال جیسے ریشم ، چلنے کی مدھم رفتار ، جس کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن بھی رواں ہو جائے، ایسے لگے کے اس سے زیادہ تیزی سے قدم بڑہائے تو نازک پھول قدموں تلے دب کے مرجھاجایئں یا پھر دل کی دھڑکن تیز ہو جائے. آنچل ڈھلکے جانے کا خوف کے ڈھلکا تو جیسے زمانے کی نظر لگ گئی ..ہونٹ یوں خاموش کے لوگوں کے کان سننے کے لئے بے چین .علم و ہنر سب تو تھا جو اب نہیں ہے،. وقت تھا جیسے ویسے علم تھا وقت تھا جیسے ویسے ہنر تھے.

    اور اب نظرڈالیں زمانے کی رفتار پر ،تو قصور وار سمجھا جاتا ہے زمانے کو ، کے جس نے یہ ساری باتیں ہی چھین لیں. یوں مردوں کے شانہ بشانہ تیز چلتی لڑکیاں کہنے کو تو بڑی سلجھی، پرکیا ہمارے خوابوں کی تعبیر ہیں؟ مردوں کے شانہ بشانہ اتنی آگے کے مردوں کو بھی پیچھے دھکیل دیں. کیا یہ برابری مردوں کو بھا سکتی ہے؟ یوں فاصلے نہیں بڑھ رہے ایک مرد اور ایک عورت میں؟ زمانے کو بدنام کرتے ہم خود کی بدنامی کو روکے آگے بڑھے جا رہے ہیں. نہ ختم ہونے والے سفر کی طرف ، یوں عدالتوں کے دروازے کھٹکھاتی مردوں سے علیحدگی مانگتی خواتین کیا شانہ بشانہ ہونے کا مقصد یہ ہی تھا. پھرتو اس زمانے کے مرد اچھے تھے جو خواتین سے آگے تھے پھر بھی خواتین کو اپنی عزت اور شان سمجھتے تھے . نہ کے آج کل کی شانہ بشانہ عورت جو مرد کو تو کیا کسی کو بھی اپنے سر سے اونچا نہیں سمجھتی.


    کیا ہم بدل پایئں گے یہ سوچ ؟ نہیں ہم نہیں بدل سکتے ، کیوں کے ہم سب ہی رنگ میں ڈھل گئے ہیں، ہم صرف سوچ سکتے ہیں، صرف ذکر کر سکتے ہیں، ہمارے پاس اب عمل نہیں رہا ، ہم خود سے بھاگ گئے ہیں، سچ کہوں تو ہم صرف ایک ایسا پرزہ ہیں جو کبھی دولت کمانے کی مشین میں ، تو کبھی مکان بنانے کی سوچ میں تو کھبی جیت جانے کی رفتار میں استعمال ہو رہے ہیں. سوچئے......................
    صرف ایک بار ہی سہی ..
    پر سوچئے






  2. Sponsored Links
  3. #2
    FM Super Star
    Join Date
    Mar 2013
    Posts
    6,120
    Post Thanks / Like
    Nice

Visitors found this page by searching for:

کاکل پیچاں

SEO Blog

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
 
 
Copyright © 2000 - 2008, YourSiteForums.com. All Rights Reserved.
No Duplication Permitted! CompleteVB skins shared by PreSofts.Com
CompleteVB skins shared by PreSofts.Com