User Tag List

Thanks Thanks:  1
Likes Likes:  0
Dislikes Dislikes:  0
Results 1 to 6 of 6
  1. #1
    FM Super Star
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Canada
    Posts
    8,880
    Post Thanks / Like

    Awards Showcase

    Blog Entries
    3

    Jindrri.....Woh Gayi Kahaan Aakhir?.....Part 9 - 4 جندرڑی ....وہ گیی کہاں آخر؟

    part 9 - 3


    http://www.friendlymela.com/showthre...B%26%231567%3B

    جندرڑی ....وہ گیی کہاں آخر؟ پارٹ 4 - 9


    میں پتا نہیں کتنی دیر تک فرش پر یونہی بیٹھا روتا رہا، لکین کچھ عرصہ بعد ایک نیا حوصلہ، ایک نئی امنگ ،نئی خواہش نے میرے اندر سر اٹھایا، کہ یہاں یونہی بیٹھنے اور رونے دھونے سے تو بہتر ہے کہ میں باہر نکلوں اور گاؤں کے لوگوں سے خود جا کر پوچھوں. شائد کسی کے توعلم میں ہوگا ہی، کہ جندڑی کہاں گئی ہے.اور اسے کون لے گیا....میں نے جلدی سے ہاتھ منہ دھویا، جوتے پہنے اور بھر نکل گیا. میں نے گاؤں میں جو بھی ملا، ہر ایک سے پوچھا لیکن کسی نے بھی کچھ بتانے سے معزوری ظاہر کی، جیسے انہیں اسکے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں تھا، لیکن صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ مجھ سے دانستہ طور پر کچھ چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں. مجھے اس وقت تک بلکل علم نہیں تھا کہ وڈے ملک صاحب نے انہیں سختی سے منع کر رکھا تھا کہ جندڑی کے بارے میں ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالنا. چند ایک لوگوں نے مجھے کچھ بتایا بھی، لیکن وہ بھی بس گول مول ہی، کسی نے بھی صحیح اور یقین کے ساتھ کچھ بھی نہ بتایا. ایک نے کہا ہاں برات میں کچھ ہی لوگ تھے جو شائد جندڑی کے باپ کے دور کے کوئی رشتےدار تھے، جو رات کو بہت لیٹ اے اور الصبح جندڑی کو بیاہ کر لے گئے...وہ شائد سیالکوٹ سے آے تھے، لیکن جندڑی کو لاہور لے کر چلے گئے..انہوں نے کسی کو بھی اس سے پہلے گاؤں میں نہیں دیکھا تھا اور وہ پتا نہیں کون لوگ تھے...کچھ نے کہا کہ ننہیں ، وہ جندڑی کو پشاور یا پھر اسلام آباد لے کر چلے گئے.. مختلف قسم کی افواہوں نے مجھے پاگل بنا دیا، اور کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس پر یقین کروں اور کس پر نہ کروں...میں نے سوچا میں خود جاکر جندڑی کے باپ سے پوچھتا ہوں، تو اس نے مجھے بتایا کہ ہاں وہ اسکے کوئی دور کے عزیز تھے، جو آے تو سیالکوٹ سے ہی تھے لیکن اب وہ کراچی چلے گئے ہیں کیونکہ جندڑی کے خاوند کی تبدیلی ابھی ابھی وہاں ہوئی ہے اور ابھی تک انکا نیا ایڈریس اسے معلوم نہیں ہے..جب بھی اسے پتا چلا، وہ مجھے ضروربتاے گا. پھر اسنے رحم طالب نظروں سے میری طرف دیکھا، جیسے کہ رہا ہو ملک صاحب ! آپکو تو وڈے ملک صاحب کا پتا ہی ہے. مجھے معاف کردو ، میں اپنی جان کے ڈر سے آپکو کچھ بھی نہیں بتا سکتا... میں نے تو جاکر ڈھول والے کو بھی ڈھونڈ لیا، جس نے بس اتنا ہی بتایا کہ صبح صبح دو آدمی آے اور اسے لے گئے کہ بس ایک گھنٹہ دھول بجانا ہے .انہوں نے مجھے سو روپے دے ، میں نے ایک گھنٹہ دھول بجایا اور پھر گھر آ گیا. مجھے اسکے علاوہ کچھ بھی علم نہیں ہے. میں شام تو تھکا ہارا حویلی واپس آ گیا، شکست خوردہ اور دل شکن. .. مایوسی کے نئے بادلوں نے چاروں طرف سے مجھے پھر سے گھیر لیا.


    کتنے ہی دن اور گزر گئے ، مجھے ابھی تک کچھ بھی پتا نہیں چلا تھا کہ جندرڑی کہاں پر ہے....جیسے جیسے دن گزرتے جاتے ، جندڑی کو ڈھونڈ لانے کی میری ساری امیدوں پر پانی پھرتا جاتا... ہر چڑھتا سورج میرے لیے تو مایوسی کے سوا کچھ بھی نہ لاتا...میں بس اپنے کمرے میں ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا. میری نظریں ہر وقت دروازے پر لگی رہتی کہ ابھی جندڑی ہنستی مسکراتی ہوئی میری چاے لے کر آنے ہی والی ہے... لیکن جندڑی نے نہ آنا تھا، اور نہ ہی وہ آیی ! مجھے بھی اب یقین ہونے لگا تھا کہ جیسا کہ چھوٹی ملکانی نے شروع میں ہی کہا تھا کہ جندڑی تو اب ہمیشہ کے لیے چلی گیی ہے اور اب وہ کبھی بھی لوٹ کر نہیں آے گی! شائد وہ صحیح کہتی تھی، جندڑی اب کبھی بھی لوٹ کر نہیں اے گی، میں سارا دن اپنے کمرے میں ہی پڑا رہتا، اور کسی سے بھی بات تک نہ کرتا....حالانکہ سب لوگ میری دلجوئی کے لیے میرے کمرہ میں آتے اور مجھے خوش کرنے کی کوش کرتے ... وڈے ملک صاحب بھی کبھی کبھار میری ماں کے ساتھ آتے، لیکن وہ میری دلجوئی کے ساتھ ساتھ میری طرف طنزیہ نظروں سے دیکھ کر میری ماں کو کہتے، " او ویکھ اپنے لاڈلے بیٹو کے تماشے! کس طرح بیٹھا ہے منہ بنا کر ؟..ایک معمولی سی نوکرانی کے لیے؟ اوہ وہ خدمت کے لیے ہوتی ہیں، پیار ویار کے لیے نہیں ہوتیں؟ میں کہتا ہوں یہ ہماری نیی نسل کو ہو کیا گیا ہے؟ اوہ انہیں ذرا بھی اپنے بزرگوں کے رسم و رواج کا پاس نہیں؟ ملکانی صحبہ ! سچی پوچھ تے مینوں تے تیرے ان دو لاڈلوں پر ذرا بھی امید نہیں! او جے توں کہویں تے میں ایک ویاہ ہور نہ کرلواں؟ " وہ زور سےہنستے اور میری ماں کو وہیں چھوڑ کر باہر چلے جاتے. میری ماں مجھے کہتی، بیٹو تو اپنے باپ کا غصہ نہ کیا کر! وہ تو ہیں ہی ایسے! تو چل میرے ساتھ میرے پتر شاباش! اور میرے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا کھا لے... تو کب تک یونہی بیٹھا رہے گا ؟ میں اپنی ماں سے کوئی نہ کوئی معذرت کر لیتا..میرا دل ہی نہیں کرتا تھا ان لوگوں کی اب شکل بھی دکھوں، جنہوں نے میری جندڑی کومجھ سے یوں جدا کر دیا تھا... اور میری ساری خوشیاں اور سکون تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا. اور مجھے ایک زندہ لاش کی طرح دن رات اپنے کمرے میں اپنے پلنگ پر لیٹنے پر مجبور کر دیا تھا...کبھی میری ماں میری پسند کی ساری چیزیں خود اپنے ہاتھوں سے بنا کر بھجواتی تو بھی میرا کسی بھی چیز کو ہاتھ لگانے کو دل نہ کرتا. ایک چھوٹی ملکانی تھی جو اکثر خود کھانا لے کر مجھے تسلی سے کچھ نہ کچھ ضرور کھلاتی اور گھنٹوں میرے پاس بیٹھی رہتی...اور مجھے امید دلاتی کہ اس نے اپنی نوکرانی کو خاص طور پر اسی کام پر لگا رکھا ہے کہ وہ گاؤں میں جاکر پتا لگاے کہ جندڑی ہے کہاں ..اور اسے پوری امید ہے کہ وہ جلد ہی جندڑی کو ڈھونڈ نکالے گی. لیکن میں سوچنے لگ جاتا کہ اگر اب جندڑی کا پتا لگ بھی جائے ، اتنے دیننوں اور مہینوں کے بعد ، تو میں کرونگا کیا؟ مجھے اس بات کا جواب ابھی تک نہیں ملا تھا.


    دن مہینوں میں بدلتے گئے، جب ایک زور چھوٹی ملکانی اپنی نوکرانی کو ساتھ لیے میرے کمرے میں آی اور میرے پاس ہی بیٹھ گی اور مجھے کہنے لگی کہ میری نوکرانی جندڑی کے بارے میں کچھ اور معلومات لے کر آی ہے اور اب یہ خود تمھیں بتاے گی! مجھے جیسے الیکٹرک شاک لگ گیا ہو، میں فورا" اٹھ کر بیٹھ گیا ، ہمہ تن گوش ! مجھے ایک منٹ کی تاخیر بھی گوارا نہ تھی، میں نے نوکرانی کی طرف یوں دیکھا جیسے کیہ رہا ہوں، جلدی بتاؤ کہاں ہے میری جندڑی؟. نوکرانی نے میرا اشتیاق دیکھ کر فورا" ہی بولنا شروع کر دیا اور مجھے بتانے لگی:..." او ملک صاحب جی! مجھے یہ سب میری ایک سہیلی نے بتایا ہے جو اس دن جندو کے گھر موجود تھی، جس دن جندو کا باپ اسے گھسیٹتا ہوا گھر لے کر آیا اور اسے ایک کمرے میں بند کر دیا. وہ بہت بری طرح رو رہی تھی ...جندو کے باپ نے جندو کی ماں کو بلایا اور جندو کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا، " لے سمبھال لے اپنی لاڈلی کو! میں نے اسے حویلی میں کام کرنے کے لیے بھیجا تھا، اور یہ وہاں پتا نہیں کیا گل کہلاتی رہی ہے؟...میری تو ناک کٹوا دی وڈے ملک صاحب کے سامنے! پوچھ ذرا اپنی اس لاڈلی سے؟....خبردار جو یہ اب اس کمرے سے باہرنکلی تو! میں اسے جان سے مار دونگا! که دو اسے! میں نے کل اسکی شادی طے کر دی ہے ماسٹر جمال دین کے لڑکے کے ساتھ... ذرا بھی چوں چراں نہ کرے اب! اور میری رہی سہی ناک بھی نہ کٹوا دے؟" کل ہی برات آ رہی ہے! تم اسے تیار کر دینا! " ... یہ سن کر جندو نے اور زور سے رونا شروع کر دیا اور کہا، " میں نے نہیں کروانی کوئی شادی وادی! میری شادی تو ہو چکی ہے! " جندو کے باپ نے کہا، " او جندو کیا بکواس کر رہی ہے؟...کون کرے گا تجھ سے شادی؟...وہ جو ہم لوگوں کو اپنے جوتے کی نوک پر بھی نہیں لکھتے؟ وہ تمھیں اپنی بہو بناییں گے؟ " کچھ تو ہوش کر اور یہ خواب دیکھنے چھوڑ دے! " پھر جندو کے باپ نے اسکی ماں کو کہا، " او جندو کی ماں! اب تم ہی سمجھاو اسے! " یہ کہ کر وہ غصے میں باہر نکل گیا.


    آخر جندو بولی، " ماں؟ میری تو شادی ہو چکی ہے ناں ماں! خدا کے واسطے یہ غصب نہ کرنا ماں! میں اپنی جان دے دونگی لیکن یہ شادی نہیں کرونگی! " ماں بولی، " بکواس بند کر نہ اب؟ تیرے باپ نے زبان دے دی ہے اور کل یہ شادی تو ضرور ہوگی! " تو جندو نے کہا، " ہاں ماں! کر لو جو کچھ بھی تمھیں کرنا ہے! لیکن میں نے تو پہلے سے ہی کر لیا ہے جو مجھے کرنا تھا! " یہ کہ کر جندو زور زور سے ہنسنے لگی، بجاے رونے کے،... جیسے کہ رہی ہو ...جاؤ کر لو جو کچھ بھی کرنا ہے! مجھے تو وہ سب کچھ مل گیا ہے جسکی مجھے تلاش تھی! اور جو خوشی مجھے ملی ، وہ تم سب بھی ملکر اب مجھ سے چھین نہیں سکتے! جندو اس وقت قہقہے مار کر ہنستے ہوے بہت عجیب لگ رہی تھی. .. بلآخر اسکی ماں نے کہا، " چل چل ختم کر یہ پاگل پن! کل منہ ہاتھ دھو کر شادی کا جوڑا پہن لینا اور کوئی تماشا نہ کھڑا کرنا! نہیں تو بہت ماروں گی جندو ! سمجھیں؟ کل تیرا ددولہا تجھے لے جائے گا! " تو جندڑی نے پھر ہنس کر کہا، " دولہا ہوگا کسی اور کا! میرے پاس تو میرا اپنا دولہا ہے ماں؟" جندو کی ماں کو جندو کا اس طرح ہنسنا کچھ زیادہ اچھا نہ لگا، وہ غصے میں آکر بولی، " ہاں ہاں ہنس لے جندو! کل اگر تو نہ گیی ناں ؟ تو وڈے ملک صاحب تجھ پر اپنے کتے چھوڑ دیں گے! تو پھر ہنستی رہنا ، جب وہ تیری بوٹی بوٹی کریں گے! " جندو نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا، " ہاں ہاں ہنسوں گی اسی طرح ! ماں! نہ میں اب تیرے سے ڈرتی ہوں اور نہ ہی وڈے ملک صاحب کے کتوں سے! تو اپنے وڈے ملک صاحب کو کہو نہ ماں؟ وہ اپنے کتے ادھر ہی چھوڑ دیں؟ میں بھاگ تو سکتی نہیں ناں ماں؟ وہ مجھے بڑی آسانی سے کھا جاییں گے! پھر تو بھی خوش ہو جانا ..اور تیرے ملک صاحب کے کتے بھی! " جندو اور زور سے ہنسنے لگی...جندو کی ماں نے اسے بڑی ارمان بھری نظروں سے دیکھا، لیکن کچھ بولی نہیں، بس اتنا ہی کہا ، " او میرے الله! اسکا تو دماغ ہی خراب ہو گیا ہے." وہ الٹے پاؤں مڑی اور باہر نکل آی .اسکی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو صاف نظر آ رہے تھے.


    کہتے ہیں ہر سچے پیار کرنے والے کی زندگی میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب اسے اپنے محبوب اور اسکی محبّت کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا ، وہ جدھر بھی نظر دوڑاتا ہے اسے اپنا محبوب ہی دکھائی دیتا ہے اور اسکے سوا کسی بھی چیز کا وجود تک نہیں ہوتا .. اور اپنے محبوب کو پانے کی طالب اتنی شدید ہوتی ہے کہ نہ اسے اور کوئی غم ستاتا ہے اور نہ ہی اسے کسی چیز سے کوئی ڈر یا خوف آتا ہے ...چاہے وہ کوئی جسمانی تشدد ہو یا اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے ، وہ اپنے محبوب کے لیے اپنی ہر شے قربان کر دیتا ہے. شائد جندڑی کی زندگی میں وہ مقام آ گیا تھا اور اب اسے کسی سے بھی کوئی ڈر نہیں تھا،،،وڈے ملک صاحب کے خونخوار کتوں سے بھی نہیں اور وہ اپنے راجکمار کے لیے اپنے تن کی بازی لگانے پر بھی تیار تھی.



  2. Thanks CaNdY thanked for this post
  3. Sponsored Links
  4. #2
    FM Super Star
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Canada
    Posts
    8,880
    Post Thanks / Like

    Awards Showcase

    Blog Entries
    3

  5. #3
    FM Super Star
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Canada
    Posts
    8,880
    Post Thanks / Like

    Awards Showcase

    Blog Entries
    3

  6. #4
    FM Super Star
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Canada
    Posts
    8,880
    Post Thanks / Like

    Awards Showcase

    Blog Entries
    3

  7. #5
    FM Super Star
    Join Date
    Sep 2013
    Location
    Canada
    Posts
    8,880
    Post Thanks / Like

    Awards Showcase

    Blog Entries
    3

  8. #6
    FM Super Star
    Join Date
    Mar 2013
    Posts
    6,525
    Post Thanks / Like
    Great

Visitors found this page by searching for:

Nobody landed on this page from a search engine, yet!
SEO Blog

Tags for this Thread

Bookmarks

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts
  •  
 
 
Copyright © 2000 - 2008, YourSiteForums.com. All Rights Reserved.
No Duplication Permitted! CompleteVB skins shared by PreSofts.Com
CompleteVB skins shared by PreSofts.Com